This site uses cookies to store information on your computer. I'm fine with this Cookie information

COVID Update

 

Services are different during the COVID -19 pandemic, to protect the public and staff, including appointment only services.

Please view Sandyford's full COVID-19 statement and COVID- 19 service information page which is updated regularly. You must not attend for an appointment if you have signs of COVID or have been in contact with someone in the last 14 days who has.

For support for those Living with HIV please read the detailed information on the Brownlee website or contact on 0141 211 1074 or 0141 232 2175 for advice.

 

 

 

 

 

اسقاط حَمَل کی خدمات سے متعلق معلومات

Abortion Services Information - Urdu

  • پہلا اقدام: کس سے بات کرنی ہے، کہاں جانا ہے اور قانون۔
  • تشخیصی کلینک میں کیا ہوتا ہے؟
  • میڈیکل اسقاط حمل کی مختلف اقسام
  • جراحی اسقاط حمل
  • اسقاط حمل کے کیا خطرات ہیں؟
  • اسقاط حمل کے بعد کیا ہوتا ہے؟
  • اسقاط حمل کے بعد معاونت
  • اسقاط حمل کے بعد حمل کے ٹشو(بافت) کا کیا ہوتا ہے؟
  • اضافی معلومات
  • رابطے کی مفید تفصیلات اور مزید معلومات

پہلا اقدام: کس سے بات کرنی ہے، کہاں جانا ہے اور قانون۔

اگر مجھے لگے کہ میں حاملہ ہوں تو مجھے کیا کرنا چاہئے؟

آپ کو حمل کا ٹیسٹ کروانا چاہئے۔ آپ کسی بھی فارمیسی یا سپر مارکیٹ سے ٹیسٹ خرید سکتی ہیں، اورگھر پر خود ہی اپنا ٹیسٹ کر سکتی ہیں۔ حمل کے مفت ٹیسٹ کے لیے آپ اپنے جی پی کی سرجری یا جنسی صحت کے کسی بھی کلینک (سینڈی فورڈ) میں بھی جا سکتی ہیں۔

حمل کے ٹیسٹ میں پیشاب کا نمونہ استعمال ہوتا ہے، جبکہ صبح سویرے لیا گیا نمونہ زیادہ درست ہوتا ہے۔ جب آپ کی ماہواری میں ایک ہفتہ کی تاخیر ہو چکی ہو تو جدید حمل کے ٹیسٹ بتا سکتے ہیں کہ آيا آپ حاملہ ہیں۔

 میں اپنے حمل کے بارے میں کس کے ساتھ بات کرسکتی ہوں؟

کئی ایک خواتین جن کا حمل بلا کسی منصوبہ بندی ٹھہر جاتا ہے وہ اپنی دوستوں، فیملی یا پارٹنر کے ساتھ حمل کے بارے میں بات چیت کرکے پوچھتی ہیں کہ کیا کرنا ہے۔ اگرآپ حمل کو جاری رکھنا نہیں چاہتیں تو آپ کو فوراً معلوم ہوسکتا ہے لیکن اکثر لوگ ابتدائی طور پر غیر یقینی صورتحال یا الجھن محسوس کرتے ہیں۔ وہ لوگ جو آپ کی صورتحال سے براہ راست تعلق نہیں رکھتے ان کے ساتھ اپنے احساسات کے بارے میں بات کرنا مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔

آپ اپنے جی پی یا سینڈی فورڈ جنسی ہیلتھ سروسزکے عملے کے کسی ممبر سے بات کر سکتی ہیں۔ آپ نرس کے ساتھ کسی متبادل امکان پربات کرنے کے لیے 8620 211 0141 پراپائنٹمنٹ کے لیے بات کر سکتی ہیں۔

اسقاط حمل سے کے بارے میں قانون کیا ہے؟

یوکے میں حمل ٹھہرنے کے 24 ہفتوں تک اسقاط حمل دستیاب ہوتا ہے، بشرطیکہ مخصوص معیار پورا کیا جائے۔  گریٹر گلاسگو اور کلائیڈ میں حمل ٹھہرنے کے 18 ہفتوں تک اسقاط حمل دستیاب ہے۔  18 ہفتوں یا اس کے بعد ہمیں آپ کو برٹش پریگنینسی ایڈوائزری سروس (بی پی اے ایس) کے پاس بھیجنا ہوگا۔

برطانیہ میں تمام اسقاط حمل اسقاط حمل ایکٹ کے مطابق کیے جاتے ہیں۔ دو ڈاکٹروں کو تحریری طور پراس بات سے اتقاق کرنا ہو گا کہ کوئی عورت (یا اس کے موجودہ بچے) حمل جاری رکھنے کے بجائے اسقاط عمل کروا لینے سے جسمانی یا ذہنی صحت کے کم خطرے سے دوچار ہو گی ۔ زیادہ  تر ڈایکٹرز غیر مطلوبہ حمل  جاری رہنے کی تکلیف کے نقصان دہ ہونے کے امکان کا جائزہ لیں گے۔  تاہم، چند ایک ڈاکٹرزاسقاط حمل کی خدمات اور ریفرلز میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کرسکتے ہیں، ایسی صورت میں انہیں آپ کو کسی دوسرے ڈاکٹر یا سروس کے پاس، جوآپ کی مدد کرنے کے قابل ہوں، بھیجنا ہوگا۔

میں اسقاط حمل کرنے کے بارے میں فیصلہ کس طرح کروں؟

اگرآپ اسقاط حمل کروانا چاہتی ہیں، یا اپنے حمل کےبارے میں زیادہ تفصیل کے ساتھ  متبادل امکانات پربات کرنا چاہتی ہیں تو آپ کو اسقاط حمل کی تشخیص کے کلینک میں جانے کی ضرورت ہوگی۔ آپ کا اپنا ڈاکٹر یا نرس، یا سینڈی فورڈ کےعملے کا کوئی ممبر آپ کو ان کلینکس کے پاس ریفرکر سکتا ہے اوروہ آپ کواپائنٹمنٹ کی تاریخ اور وقت  کے بارے میں بتائیں گے۔

آپ اسقاط حمل کی تشخیص کے کلینک میں اپنی اپائنٹمنٹ خود بھی بنا سکتی ہیں۔ آپ اپائنٹمنٹ کے لیے ٹرمینیشن آف پریگنینسی اسیسمنٹ اینڈ ریفرل سروس (ٹی او پی اے آر) کو اس نمبر پر فون بھی کر سکتی ہیں 8620 211 0141۔

زیادہ سے زیادہ 5 اوقات کارکے اندر اندرتشخیص کے لیے اپائنٹمنٹس دستیاب ہونی چاہیں۔ اسقاط حمل کا جائزہ لینے والا کلینک اسقاط حمل ایکٹ کی ضروریات کے مطابق تمام کاغذی کاروائی انجام دے گا۔

کیا مجھے اسقاط حمل کے لیے پیسوں کی ادائیگی کرنا ہوگی؟

جی نہیں، آپ کو اسقاط حمل کےطریقہ کار یا اسقاط حمل کے جائزے کے لیے پیسے ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی بشرطیکہ آپ برطانیہ میں این ایچ ایس کيئرحاصل کرنے کی اہل ہوں۔

تشخیصی کلینک میں کیا ہوتا ہے؟

میں اسقاط حمل کی تشخیص کے لیے کلینک میں کہاں جاؤں گی؟

اسقاط حمل کی تشخیص کے کلینکس سینڈی فورڈ اورچند ایک مقامی اسپتالوں کے بیرونی مریضوں کے کلینکس میں موجود ہیں۔ 

میں کلینک میں کس سے معائنہ کرواؤں گی؟

جب آپ اسقاط حمل کی تشخیص کے کلینک میں تشریف لائیں گی تو کلریکل اسٹاف کا ایک ممبر آپ کو چیک ان کرے گا اور اس کے بعد آپ  کسی ڈاکٹر یا نرس، یا دونوں سے بات چیت کریں گی۔

ہمارا عملہ اسقاط حمل کی سروس میں کام کرنے کے لئے خصوصی طور پر تربیت یافتہ ہے اور وہ آپ کی صورتحال اور ضروریات کو سمجھتے ہوں گے۔ آپ اپنی صورتحال اور حمل کے بارے میں آپ کیا محسوس کرتی ہیں پر بات چیت کر سکیں گی۔

ہم حمل کے متبادل طریقوں کی وضاحت کریں گے اور آپ کو اسقاط حمل سے متعلق مفصل معلومات فراہم کریں گے۔ اگرآپ اسقاط حمل کروانے کا فیصلہ کرلیتی ہیں توہم آپ کے لئے اسقاط حمل کی تاریخ کا بندوبست کریں گے۔ اگرآپ کو معلوم نہیں کہ آپ نے کس طرح آگے بڑھنا ہے توآپ اپنے فیصلے پرغور کرنے کے لئے وقت لے سکتی ہیں لہذا ہم آپ کو واپسی کی اپائنٹمنٹ کی پیش کش کریں گے۔ اگرآپ چاہیں تو خصوصی کونسلر سے بات چیت کرنے کے لئے اپائنٹمنٹ بھی حاصل کر سکتی ہیں۔

 

کلینک میں کیا ہوگا؟

 الٹراساؤنڈ

اسقاط حمل کی تشخیص  کے کلینک میں جانے والی ہر خاتون کا الٹراساؤنڈ اسکین ہوگا۔ اس سے اس بات کی تصدیق ہوجائے گی کہ آپ کتنے ہفتوں کی حاملہ ہیں، اوردیکھا جائے گا کہ آیا حمل اسقاط حمل (حمل کی ناکامی) کا سبب تونہیں بنے گا یا ٹیوبل (ایکٹوپک) حمل تو نہیں ہوگا۔

ہم آپ سے کہیں گے کہ اسکین میں مدد دینے کے لیے آپ بھرے ہوئے مثانے کے ساتھ کلینک پر تشریف لائیں۔ زیادہ تراسکین پیٹ (شَکَم ) کے اسکین ہوتے ہیں لیکن اگرآپ حمل کی بالکل ابتداء میں ہیں تو آپ کو ٹرانسویجینل (داخلی) اسکین درکار ہوگا۔ اسکین کرنے والا شخص عام طور پرآپ کو اسکین کی تصویر نہیں دکھائے گا۔ اگرآپ اسکین دیکھنا چاہتی ہوں تو براہ کرم عملے کے ممبر کو بتائیں۔

جنسی صحت کی اسکرین

ہم اسقاط حمل کی تشخیص کے کلینک پرتشریف لانے والے ہر فرد کی جنسی صحت کی اسکرین کا ٹیسٹ کریں گے۔ اس کا مقصد اس بات کا جائزہ لینا ہوتا ہے کہ کوئی ایسے انفیکشنزتو موجود نہیں ہیں جو اسقاط حمل کے بعد پیچیدگیاں پیدا کرسکتے ہیں۔

ہم اندام نہانی کے نچلے حصے سے روئی کے بڈ سے ایک نمونہ لینے کے لئے آپ سے کہیں گے جس کو ہم کلیمائڈیا اورسوزاک لئے ٹیسٹ کریں گے۔ جنسی صحت کی مکمل اسکرین کے ٹیسٹ  میں ایچ آئی وی اور سیفلیس کا ٹیسٹ بھی شامل ہے اور آپ کا یہ ٹیسٹ دوسرے ٹیسٹوں کے ساتھ ساتھ لیا جائے گا۔

خون کا ٹیسٹ

جب آپ کلینک میں تشریف لاتی ہیں تو آپ کےخون کا ٹیسٹ لیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد آپ کا مکمل بلڈ ٹیسٹ کرنا ہوتا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ آپکو خون کی کمی کی بیماری تو نہیں ہےاور ہم آپ کا بلڈ گروپ بھی چیک کریں گے۔

اگرآپ کے خون کی قسم رہی سس منفی ہے تو اسقاط حمل کے دن آپ کو اینٹی ڈی نامی انجیکشن لگانے کی ضرورت  پڑ سکتی ہے۔ اس کا مقصد آپ کو مستقبل کے حمل میں بلڈ گروپ کی پیچیدگیوں سے بچانا ہوتا ہے۔

اگرآپ جنسی صحت کا مکمل جائزہ چاہتی ہیں تو آپ کے ایچ آئی اور سیفلیس ٹیسٹ خون کے اسی نمونے سے حاصل کیے جائیں گے۔

رضامندی

اگرآپ فیصلہ کرتی ہیں کہ آپ اسقاط حمل کروانا چاہتی ہیں تو ہم آپ سےرضامندی کے فارم پر دستخط کرنےکا کہیں گے جس میں اسقاط حمل کے لیے آپکی تحریری رضامندی شامل ہو گی۔  یہ فارم اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ آپ اسقاط حمل کروانا چاہتی ہیں اوراس میں کہا گیا ہے کہ آپ کوآپکی ترجیحات اورعملی طریقہ کار کے خطرات سے متعلق معلومات فراہم کر دی گئی ہیں۔

یہ ضروری ہے کہ آپ ہم سے کسی بھی غیر واضح معلومات کے بارے میں جوآپ کو فراہم کی گئی ہیں سوال کریں۔

اسقاط حمل کی ترجیحات

گریٹر گلاسگو اور کلائیڈ میں آپ حمل کے 18 ہفتوں تک اسقاط حمل کرواسکتی ہیں۔ اسقاط حمل کی قسم کا انحصاراس بات پر ہوگا کہ آپ کتنے ہفتوں کی حاملہ ہیں۔

 

میڈیکل اسقاط حمل کی مختلف اقسام

میڈیکل اسقاط حمل (گولیاں) ۔ 18 ہفتوں تک کی حاملہ

میڈیکل اسقاط حمل میں گولیوں کے 2 سیٹ ہوتے ہیں جوآپ کو خون آنے کا سبب بن کر حمل ختم کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں، اسی طرح جس طرح کسی کا حمل گر جاتا ہے۔

میڈیکل اسقاط حمل میں دودنوں کے وقفے سے  مزید 2 اپآئنٹمنٹس دی جاتی ہیں۔  اگرآپ پرمندرجہ ذیل میں سے کسی بھی بات کا اطلاق ہوتا ہے تو یہ علاج آپ کے لیے موزوں نہیں ہوسکتا ہے:

  • ہائی بلڈ پریشر
  • ہائی کولیسٹرول
  • طویل مدت والے کورٹیکواسٹیرائیڈ علاج پر ہونا۔
  • اینٹی کوگولنٹ علاج پر ہونا۔

ہم آپ کواسقاط حمل کے علاج کی پہلی اپائنٹمنٹ پرپہلی دوا (مائفی پریسٹون) دیں گے۔  یہ ایک گولی ہے جس کو آپ نگلتی ہیں۔ یہ حمل میں جانے والے ہارمونز کو روکتی ہے۔

دوسری اپائنٹمنٹ پرہم آپ کو دوسری دوا (میسو پروسٹول) دیں گے۔ یہ 4 گولیوں کا ایک سیٹ ہے جسے آپ اندام نہانی میں ڈالتی ہیں۔ ان گولیوں سے آپ کو خون آئے گا اور یہ حمل کو ختم کر دیں گی۔

اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ اپنی اپائنٹمنٹ پر تشریف لانے سے قبل ناشتہ کرلیں۔ آپ اپنی پسند کے کسی ایک فرد کو اپنے ساتھ لا سکتی ہیں۔

آپ اپنے علاج پراپنے بچوں کو نہیں لاسکتیں، لہذا اگر آپ کے بچے ہیں تو آپ کو بچوں کی دیکھ بھال کے انتظامات کرنے کی ضرورت ہوگی۔

میری پہلی اسقاط حمل کی اپائنٹمنٹ پر کیا ہوگا؟

  • ڈاکٹریا نرس آپ کی طبی تفصیلات چیک کریں گے۔
  • ہم آپ کو تھوڑے سے پانی کے ساتھ نگلنے کے لیے پہلی مائفی پریسٹون  گولی دیں گے۔  آپ تھوڑی سی بیمارمحسوس کر سکتی ہیں۔
  • اگرگولی لینے کے 1 گھنٹے کے اندراندر آپ کو قے ہو جائے تو دوسری گولی لینے کے لئے آپ کو وارڈ یا کلینک میں واپس جانا پڑے گا۔
  • براہ کرم شراب نوشی یا تمباکو نوشی نہ کریں۔ اگرآپ سگریٹ نوشی ترک نہیں کر سکتیں تو ان دنوں میں کم سگریٹ پینے کی کوشش کریں۔

میرے ویزٹس کے درمیان کیا ہوگا؟

  • دوسری اپائنٹمنٹ پر تشریف لانے سے قبل آپ کو ہلکا سا خون آ سکتا ہے اورماہواری کی طرح کا درد ہوسکتا ہے۔  زیادہ ترصورتوں میں صرف معمولی علامات ظاہر ہوتی ہیں لہذا پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں۔
  • برائے مہربانی ٹیمپون استعمال نہ کریں۔
  • اس بات کا معمولی سا امکان ہے کہ آپ کو زیادہ خون آئے اور زیادہ سخت قسم کی تکلیف ہو۔  ممکن ہے کہ اس مرحلے پرآپ کا حمل ساقط  نہ ہو سکےلیکن اس بات کا امکان بہت کم ہے۔ اگرآپ کسی مرحلے پر پریشان ہو جائیں تو مہربانی فرما کر مدد اور مشورے کے لیے وارڈ یا کلینک سے رابطہ کریں۔ ہم آپ کو گآئناکالوجی یا کلینک نرس کا براہ راست رابطہ نمبر دیں گے۔  اگرآپ کو یا عملے کو تشویش ہوئی تو آپ جائزے کے لیے واپس تشریف لا سکتی ہیں۔
  • اگر آپ کو درد ہو یا مروڑ پڑیں تو آپ درد ختم کرنے والی سادہ دوائی پیراسیٹامول استعمال کر سکتی ہیں۔ آپ کی دوا کی پہلی اپائنٹمنٹ کے بعد ہم آپ سے 2 دن بعد وارڈ میں واپس آنے کو کہیں گے۔

خواہ آپ سمجھتی ہوں کہ اب آپ حاملہ نہیں ہیں تو بھی یہ بہت ضروری ہے کہ آپ اس اپائنٹمنٹ پر تشریف لائیں۔

میری دوسری اپائنٹمنٹ پر کیا ہوگا؟

  • اپنے قیام کو زیادہ آرام دہ بنانے کے لیے براہ کرم کوئی چیز پڑھنے، کھانے پینے، موسیقی سننے کے لیے بلا جھجھک اپنے ساتھ لائیں۔ آپ کو تبدیل کرنے کے لیے پاجامہ یا نائٹ ڈریس بھی لانا چاہیے۔
  • ہم آپ کو وارڈ میں داخل کریں گے۔ آپ کو 6 تا 8 گھنٹوں کے درمیان تک قیام کی توقع کرنی چاہئے۔ خاص طور پراگر آپ 9 ہفتوں سے زیادہ  کی حاملہ ہوں یا پیچیدگیاں درپیش ہوں تو کبھی کبھار آپ کو قدرے زیادہ دیر تک (مشکل سے رات بھر کے لیے) قیام کرنے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔
  •  نرس آپ سے گزشتہ 2 دنوں میں پیش آنے والی کسی بھی تکلیف یا خون آنے کے بارے میں دریافت گی۔ اگرآپ کو دیگر کسی بھی طرح کی علامت ہیں  تو براہ کرم ان کا ذکر کریں۔
  •  ہم آپ کواندام نہانی میں داخل کرنے کے لیے 4 چھوٹی گولیاں دیں گے (اگرآپ مناسب سمجھیں تو عملہ کا ایک ممبر آپ کے لیے یہ کام کرسکتا ہے)۔ یہ گولیاں آپ کے جسم کو حمل ساقط کرنے میں مدد دیں گی۔ آپ کو خون آنے لگے گا اور ماہواری کی طرح کی تکلیف ہو گی۔  اس علاج کے بارے میں عورتوں کا اپنا اپنا ردعمل ہوتا ہے۔  چند ایک خواتین کو بہت زیادہ خون آتا  ہے اور  درد ہوتا ہے، جبکہ دیگر کو کم سے کم خون آتا ہے اور درد ہوتا ہے۔ بیشتر خواتین اس کے درمیان میں کہیں پرہوتی ہیں۔
  • خاص طور پراگر آپ 7 ہفتوں سے زیادہ کی حاملہ ہوں تو اسقاط حمل خون کے لوتھڑوں کی صورت میں ہو سکتا ہے اور حمل کے قابل شناخت ہونے کا امکان ہوتا ہے۔  اگرآپ اس کونہیں دیکھنا چاہتیں تو یہ ضروری ہے کہ جو کچھ باہر نکلے آپ اس کو نہ دیکھیں۔
  • آپ کو اسہال، بیماری، سر درد، چکر آنا، اور گرمی یا سردی بھی لگ سکتی ہے۔ عام طور پر ان کے بارے میں فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن براہ کرم ان کا ذکر اپنی دیکھ بھال پر مامور نرس سے کریں جو آپ کی علامات دور کرنے میں معاون ثابت سکتی ہیں۔
  • ہم آپ سے ہربار بیت الخلا استعمال کرتے وقت  بیڈپین استعمال کرنے کا کہیں گے تاکہ نرسیں یہ چیک کرسکیں کہ ٹوائلٹ کا استعمال کرتے ہوئے آپ کا حمل ساقط ہوگیا ہے یا نہیں۔ اگر آپ خود سے بیت الخلا جانے میں تکلیف محسوس کرتی ہیں تو براہ کرم نرس سے کہیں جو آپ کی مدد کرے گی۔
  • براہ کرم سینیٹری پیڈ استعمال کریں۔ ان کو تلف کرنے سے قبل نرس حمل ساقط ہونے کی علامات کا جائزہ لے گی۔
  • عام طورگھر جانے سے قبل پرآپ کی اندام نہانی کا معائنہ کیا جائے گا تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ اسقاط حمل مکمل ہوگیا ہے۔ کبھی کبھاراس کا جائزہ لینے کے لیے الٹراساؤنڈ اسکین کا بندوبست کرنا ضروری ہوسکتا ہے۔
  •  
  • اسقاط حمل کے دن کے لیے ہم آپ کو درد کم کرنے والی ادویات میں سے کسی کا انتخاب کرنے کا کہیں گے۔  زیادہ تر خواتین کے لیے درد رفع کرنے والی گولیاں کافی ہوتی ہیں، لیکن کبھی کبھار درد رفع کرنے والی سخت گولیوں کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اسقاط حمل کے دن ہم آپ کو 2 اینٹی بائیوٹکس دیں گے تاکہ بعد ازاں آپ کو انفیکشن کی تکلیف ہونے کا امکان کم ہوجائے۔ طبی اسقاط حمل کی مختلف اقسام ہیں جبکہ اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اسقاط حمل کے وقت آپ کتنے ہفتوں کی حاملہ ہیں۔

ابتدائی طبی اسقاط حمل

یہ ان خواتین کے لئے ہوتا ہے جو 9 ہفتوں سے کم کی حاملہ ہوں۔ عام طور پر ہم آپ کو دن میں میڈیکل اسقاط حمل یا گھر میں ابتدائی طبی اسقاط حمل (ای ایم اے ایچ) کی پیشکش کریں گے۔

(i) ڈے کیس میڈیکل اسقاط حمل

علاج کے دوسرے دن ہم آپ کو 8-6 گھنٹوں کے لئے وارڈ میں داخل کریں گے۔ ایک نرس آپ کی دیکھ بھال کرے گی اورعام طور پرآپ اس وقت حمل ساقط کریں گی جب آپ وارڈ میں ہوں گی۔

(ii) گھر پر ابتدائی طبی اسقاط حمل (ای ایم اے ایچ)

آپ کو کلینک میں دوائیوں کی پہلی گولی (مائفی پریسٹون) دی جائے گی۔ آپ کو گھر لے جانے کے لیے دوائیوں کا ایک پیکٹ دیا جائے گا۔ اس میں اندام نہانی میں رکھنے والی گولیاں شامل ہوں گی جنہیں آپ 2 دن بعد گھر پر داخل کریں گی۔  آپ کو گھر لے کر جانے کے لیے درد کم کرنے والی دوائیاں بھی دی جائیں گی۔  عام طور پراندام نہانی میں گولیاں رکھنے کے چند گھنٹوں بعد ہی آپ کو شدید خون آئے گا اورآپ کا حمل گھر پر ساقط ہو جائے گا۔

گھرپرابتدائی طبی اسقاط حمل کے لیے موزوں ہونے کے لیے آپ کو کچھ معیارات پورے کرنے کی ضرورت ہوگی:

  • 16 سال یا اس سے زیادہ عمر کی ہوں۔
  • عمومی طور پرصحت اچھی ہو اور حمل سے متعلق ماضی کی کوئی نمایاں پیچیدگیاں درپیش نہ ہوں۔
  • آپ کے ساتھ پورے دن کے لئے گھر پر کوئی شخص موجود ہو۔
  • ٹیلیفون دستیاب ہو۔
  • ٹرانسپورٹ تک رسائی حاصل ہو تاکہ اگر آپ کو تشویش ہو توہسپتال واپس جا سکیں۔
  • انگریزی زبان میں بات کر سکتی ہوں اور پڑھ سکتی ہوں۔
  • کسی ہسپتال کے A + E ڈیپارٹمنٹ تک 30 منٹوں میں رسائی حاصل کرسکتی ہوں۔
  • فالو اپ کے لیے ایک فون نمبر دے سکتی ہوں۔
  • 3 ہفتوں کے بعد فالو اپ ٹیسٹ کروانے پر رضامند ہوں۔

اگرآپ گھر پر ہی ابتدائی طبی اسقاط حمل کا انتخاب کرتی ہیں تو ہم آپ کو ایک براہ راست ٹیلیفون نمبر فراہم کریں گے تاکہ اگرآپ چاہیں تو مشورے کے لئے کال کرسکیں۔ خون آنے کے لئے آپ سینیٹری پیڈ استعمال کریں گی جن کو آپ بالکل اسی طرح تلف کر سکتی ہیں جس طرح آپ ماہورای کے پیڈ کو کرتی ہیں۔ ہم اس بارے میں آپ کومشورہ دیں گے کہ کس طرح تصدیق کرنی ہے کہ اسقاط حمل کامیاب ہو گیا ہے۔  عام طور پر یہ حمل کا ایک خصوصی ٹیسٹ ہو گا جس کوگھر پر3 ہفتوں کے بعد آپ استعمال کریں گی۔

کبھی کبھارالٹراساؤنڈ اسکین کے لیے ہم آپ کو واپس آنے کا کہتےہیں۔

بعد کا طبی اسقاط حمل

اس کی پیشکش ہم ان خواتین کوکرتے ہیں جو 18-9 ہفتوں کے درمیان کی حاملہ ہوں۔ ہم گھریلوعلاج کی پیش کش نہیں کرسکتے لہذا آپ کو دن بھرہسپتال میں ہی رہنا ہوگا۔ زیادہ ترخواتین کو 8 گھنٹوں تک قیام کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے لیکن بعض اوقات آپ کو شام تک  یا پھر کبھی کبھاررات کو قیام کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

جب آپ 9 ہفتوں سے زیادہ مدت کی حاملہ ہوں تو اسقاط حمل زیادہ تکلیف دہ ہونے کا خدشہ ہوتا ہے لہذا آپ کو زیادہ خون آئے گا۔  آپ کی دیکھ بھال کرنے والی نرس اس بات کا اندازہ لگائے گی کہ 3 گھنٹوں کے بعد آپ کی حالت کیسی ہے۔ اس مرحلہ پرچند ایک خواتین کو گولیوں کی شکل میں زیادہ دوائیں لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔  ہم آپ کو آپ کا حمل ساقط ہونے تک یہ گولیاں ہر3 گھنٹوں کے بعد دیں گے۔

جب ایک بار حمل ساقط جائے گا تو ہم رحم سیکڑنے کے لیے آپ کوایک انجیکشن دیں گے اور زیادہ خون آنے کا خطرہ کم کردیں گے۔

اس عمل کے بعد کتنے عرصے تک میرا خون آتا رہے گا؟

زیادہ ترخواتین کو اسقاط حمل کے بعد  10 - 7 ایام تک خون آتا ہے، پہلے چند ایک روز کافی بھاری ہوتے ہیں جبکہ اس کے بعد ہلکا ہوجاتا ہے۔ کچھ عورتوں کو زیاد مدت تک خون آتا ہے اور خون کا آنا اسقاط حمل کے بعد پہلی ماہواری تک جاری رہتا ہے۔

آپ کواسقاط حمل کے بعد ٹیمپون استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ اس سے انفیکشن کی روک تھام میں مدد ملتی ہے۔ جب آپ کی اگلی ماہواری آئے تو آپ دوبارہ ٹیمپون استعمال کرسکتی ہیں۔

آنول (بعد از پیدائش)  

عام طور پرآنول (بعد از پیدائش) ٹشو حمل کے ساتھ ہی نکل آتی ہے یا اس کی تھوڑی ہی دیر بعد۔ کبھی کبھی (20 میں سے1 سے کم عورت) آنول نہیں نکلتی لہذا آنول کو نکلوانے کی خاطر ایک چھوٹے سے آپریشن کے لئےآپ کو تھیٹر جانا پڑتا ہے۔

جراحی اسقاط حمل

جراحی اسقاط حمل (آپریشن) - 7 سے 12 ہفتوں کی حاملہ

آپ سرجیکل اسقاط حمل کروانے کا فیصلہ کرسکتی ہیں۔  جنرل اینستھیٹک کے تحت آپ کا یہ ایک مختصرسا آپریشن ہوتا ہے۔  اس کا مطلب ہے کہ آپریشن کے دوران آپ سو جائیں گی۔

قبل از تشخیص ویزٹ۔

اگرآپ سرجیکل اسقاط حمل کروانے کا فیصلہ کرتی ہیں تو آپ کو تشخیص سے قبل اپائنٹمنٹ لینی ہو گی۔ اس بات کو یقینی بنانے کےلیے کہ آپ دن کی سرجری میں اپنا آپریشن کروانے کے لیے کافی تندرست ہیں یہ معمول کا ایک جائزہ ہوتا ہے۔

اس اپائنٹمنٹ پرعملہ آپ کی عمومی صحت، قد، وزن اور بلڈ پریشر چیک کرے گا۔  کبھی کبھارآپ کو دوسرے ٹیسٹ کروانے کی ضرورت پیش آئے گی جیسا کہ ایکس رے یا ای سی جی (دل کا پتہ لگانا)۔ قبل ازتشخیص معائنہ اسی دن انجام پا سکتا ہے جس دن آپ کے اسقاط حمل کی کلینک اپائنٹمنٹ ہو گی یا آپ کو ایک الگ ویزٹ کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ 

ہم آپ کو یہ بھی بتائیں گے کہ آپ کے آپریشن کے دن آپ کو کس وقت سے کھانا پینا ترک کرنا  ہوگا۔  اس کا مطلب ہے کہ آپ اس وقت سے لیکر اپنے آپریشن تک کھانے پینے کے لئے کچھ نہیں لیں گی۔

ڈے سرجری میں داخلہ

جب آپ اسقاط حمل کی تشخیص کے کلینک پر تشریف لائیں گی تو ہم آپ کو آپکی ڈے سرجری کی تاریخ، وقت اور مقام کے بارے میں بتا دیں گے۔ یہ ضروری ہے کہ آپ ڈے سرجری وارڈ میں صحیح وقت پر تشریف لائیں۔ اگرآپ نے دیر کر دی تو آپ کا آپریشن منسوخ ہوسکتا ہے۔ جب آپ ڈے سرجری وارڈ میں پہنچ جائیں گی تو ہم آپ کی تفصیلات دیکھیں گے۔ ہم آپ کوآپریشن سے چند گھنٹے قبل داخل کر دیں گے۔

جب آپ ایک بارداخل ہوجائیں گی تو ڈاکٹر یا نرس چیک کریں گے کہ آيا اب بھی آپ اسقاط حمل کروانے کی خواہش رکھتی ہیں۔ ہم منہ میں رکھنے کے لیے آپ کو 2 چھوٹی گولیاں دیں گے۔  ان گولیوں کا مقصد رحم کی گردن کو نرم کرنا  اورآپ کے آپریشن کے دوران رحم اور تخم دانی کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان کا خطرہ کم کرنا ہوتا ہے۔  عام طور پرہم آپ کو یہ گولیاں آپ کے آپریشن سے3-2 گھنٹے قبل دیتے ہیں۔ گولیاں لینے کے بعد آپ کو پیٹ میں مروڑ پڑ سکتے ہیں۔

آپ کو ڈے سرجری یونٹ میں کوئی بھی لے کر جا سکتا ہے لیکن داخلے کے بعد وہ آپ کے ساتھ نہیں رہ سکے گا/گی۔

آپریشن کے دوران کیا ہوتا ہے؟

آپ کو جنرل اینستھیٹک لگے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو ایک انجکشن دیا جائے گا تاکہ آپ سو جائیں اور آپریشن کے دوران کچھ محسوس نہ کریں۔

آپریشن کے دوران  ڈائلیٹر استعمال کرتے ہوئے رحم کی گردن (تخم دانی) کھولی جاتی ہے اور ایک پتلی سی پلاسٹک ٹیوب استعمال کرتے ہوئے حمل کو نرم سکشن کے ذریعے رحم سے ہٹا دیا جاتا ہے۔ آپریشن پرعام طور پر 15-10 منٹ لگتے ہیں۔ عام طور پرآپریشن اندام نہانی کے ذریعے سے انجام دیا جاتا ہے لہذا آپ کو کسی قسم کے کٹ اور ٹانکے لگانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

میرے آپریشن کے بعد کیا ہوگا؟

آپریشن مکمل ہونے کے بعد آپ کو بحالی کے کمرے ہوش آ‏ئے گا اور نرسنگ ٹیم کا ایک ممبر آپ کو دوبارہ وارڈ میں لے جائے گا۔

کیا مجھے کوئی درد ہو گا؟

زیادہ ترخواتین کو آپریشن کے بعد چند ایک گھنٹوں تک ماہواری کی طرح کا درد رہتا ہے۔ چند ایک خواتین میں یہ درد کچھ دنوں تک جاری رہ سکتا ہے۔ آپ اس درد کو رفع کے لیے پیراسیٹامول یا آئبوپروفین جیسی درد رفع کرنے والی دوا استعمال کرسکتی ہیں۔

آپریشن کے بعد میں کب کھا پی سکتی ہوں؟

تَقريباً  45-30 منٹوں کے بعد ہم آپ کو کھانے پینے کے لئے کچھ دیں گے۔ اگرآپ کو متلی محسوس ہو یا آپ قے کردیں تو  آپ کی دیکھ بھال کرنے والی نرس اس کو بند کرنے کے لیے آپ کو انجیکشن دے سکتی ہے۔

آپریشن کے بعد مجھے کتنے عرصے تک خون آئےگا؟

زیادہ ترخواتین کو اسقاط حمل کے بعد  10 - 7 ایام تک خون آتا ہے پہلے چند روز کافی بھاری ہوتے ہیں جبکہ اس کے بعد ہلکا ہوجاتا ہے۔ کچھ عورتوں کو زیاد مدت تک خون آتا ہے اور خون کا آنا اسقاط حمل کے بعد پہلی ماہواری تک جاری رہتا ہے۔

آپ کواسقاط حمل کے بعد ٹیمپون استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ اس سے انفیکشن کی روک تھام میں مدد ملتی ہے۔ جب آپ کی اگلی ماہواری آئے تو آپ دوبارہ ٹیمپون استعمال کرسکتی ہیں۔

میں کب گھر جا سکوں گی؟

اس بات پر انحصار کرتے ہوئے کہ آپ اپنے آپریشن کے لئے دن کے کس وقت تشریف لاتی ہیں عام طور پرآپ صبح یا سہ پہر کے آخر تک گھر چلے جائیں گی۔  کبھی کبھارکچھ خواتین کو اس آپریشن کے بعد رات کو ہسپتال میں رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ براہ کرم اس کے لیے تیار رہیں اور اپنے داخلے سے قبل کے ضروری انتظامات (جیسے بچوں کی دیکھ بھال) کرلیں۔ چونکہ آپ کا آپریشن جنرل اینستھیٹک کے تحت  ہوچکا ہے لہذا ایک ذمہ دار بالغ شخص کے آپ کے ساتھ گھر جانے اور رات کو آپ کے ساتھ رہنے کی ضرورت ہوگی۔

آپ کو یہ نہیں کرنا چاہئے:

  • گاڑی چلانا۔
  • مشینری چلانا۔
  • شراب نوشی کرنا۔
  • اگلے 24 گھنٹوں کے دوران کسی بھی طرح کی اہم دستاویزات پر دستخط کرنا۔

اسقاط حمل کے کیا خطرات ہیں؟

دوران حمل کسی بھی وقت اسقاط حمل کروانا ایک محفوظ طریقہ ہے جس کی سنگین پیچیدگیاں غیر معمولی ہیں۔ حمل کے اوائل ہی میں آپ کا اسقاط حمل کروانا زیادہ محفوظ ہوتا ہے۔ آپ کے ڈاکٹر یا نرس کو چاہیے کہ وہ آپ کو ان خطرات اور پیچیدگیوں کے بارے میں بتائیں جو آپ کے اسقاط حمل کے مخصوص طریقہ کار سے متعلق ہیں۔

اگرآپ کو خطرات سے متعلق خدشات  درپیش ہیں تو اپنے ڈاکٹر یا نرس کو بتائیں تاکہ وہ آپ کومزید معلومات فراہم کر سکیں۔

اسقاط حمل کے وقت کے خطرات میں یہ شامل ہیں:

  • اندام نہانی سے اتنی زیادہ مقدار میں خون آنا کہ آپ کو انتقال خون کی ضرورت پڑجائے۔ یہ ہر1000 اسقاط حمل میں سے 1 کی صورت میں جس میں 20 ہفتوں سے کم حمل ہوہوتا ہے لیکن 20 ہفتوں سے زیادہ کے حمل میں کیے جانے والے اسقاط حمل میں بڑھ کر 1000 میں 4 تک پہنچ جاتا ہے۔
  • ہر سرجیکل اسقاط حمل میں تخم دانی کو پہنچنے والا نقصان 100 میں 1 سے زیادہ نہیں ہوتا ہے۔
  • ہر1000 سرجیکل اسقاط حمل میں بچہ دانی کو پہنچنے والا نقصان 1 سے 4 کے درمیان ہوتا ہے۔
  • حمل کے 12 اور 24 ہفتوں کے درمیان ہونے والے ہر 1000 طبی اسقاط حمل میں 1 سے کم میں بچہ دانی کو نقصان پہنچتا ہے۔

اگر پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑے تو علاج بشمول سرجری کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

اسقاط حمل کے بعد ہونے والے خطرات میں یہ شامل ہیں:

اسقاط حمل کے وقت کے بجائے اسقاط حمل کے 2 ہفتوں کے بعد آپ کو زیادہ مسائل درپیش ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ 

  • اسقاط حمل کے بعد 10 میں سے 1 عورت کو انفیکشن ہو گا۔ اسقاط حمل سے قبل جنسی صحت کے بارے میں آپ کا ایک اسکین ٹیسٹ ہو گا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ پیچیدگیوں کا سبب بننے والا کوئی انفیکشن پہلے سے موجود تو نہیں ہے۔ اسقاط حمل کے دن آپ کو اینٹی بائیوٹکس دیئے جا سکتے ہیں۔
  • ہو سکتا ہے کہ بچہ دانی سے مواد کو مکمل طور پرنہ نکالا جا سکے لہذا مزید علاج کی ضرورت پڑ جائے۔ میڈیکل اسقاط حمل کروانے والی 100 میں 6 سے کم اور سرجیکل اسقاط حمل کروانے والی 100 خواتین میں 2-1 میں ایسا ہوتا ہے۔ اس کی روک تھام مزید اینٹی بائیوٹکس سے کی جاسکتی ہے لیکن بعض اوقات بچہ دانی (رحم سے) حمل کے ٹشو نکالنے کے لئے آپریشن کی ضرورت پڑسکتی ہے۔

اسقاط حمل کے بعد کیا ہوتا ہے؟

حمل ختم ہونے کے بعد آپ کو 2 سے 3 ہفتوں تک خون آ سکتا ہے۔  تاہم چند ایک خواتین کواس سے کم خون آتا ہے جبکہ دیگرکو ان کی اگلی ماہواری تک خون آ سکتا ہے۔ آپ کو اسقاط حمل کے بعد ٹیمپون استعمال نہیں کرنا چاہئے تاکہ انفیکشن ہونے کا امکان کم ہو سکے۔  آپ کو سینیٹری پیڈ استعمال کرنے چاہیں۔ جب آپ کی اگلی ماہواری آئے تو آپ دوبارہ ٹیمپون استعمال کرسکتی ہیں۔

 

کیا مستقبل کےاسقاط حمل سے میری ثمر آوری متاثر ہوگی؟

اگرآپ کے اسقاط حمل میں کوئی مسائل نہ تھے  تو اس سے مستقبل میں آپ کے دوبارہ حاملہ ہونے کے امکانات پراثر نہیں پڑے گا۔ اگرآپ ایک بار پھر حاملہ ہوناچاہیں تو اسقاط حمل، حمل ضائع ہو جانے،ایکٹوپک حمل یا  لو پلیسنٹیا کے خطرے میں اضافے کا سبب نہیں بنتا۔ تاہم آپ کو قبل از وقت پیدائش کے تھوڑے سے خطرے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اسقاط حمل کے بعد مانع حمل دوائیں

بہت ضروری ہے کہ آپ اپنے اسقاط حمل کے بعد مانع حمل دوا کی منصوبہ کریں تاکہ آپ ایک بار پھر ہوجانے والے غیر منصوبہ بند حمل کے امکان کو کم کرسکیں۔ اسقاط حمل کے بعد آپ کی ثمر آوری بہت جلد واپس آجائے گی لہذا یہ بہت ضروری ہے کہ آپ ابھی سے مانع حمل کا آغاز کریں۔ آپ کا ڈاکٹر یا نرس آپ کے ساتھ آپ کے مانع حمل انتخاب پر تبادلہ خیال کریں گے اوروہ آپ کے لئے طریقہ کار کا صحیح انتخاب کرنے میں آپ کی مدد کریں گے۔

مانع حمل کے طویل طریقےجیسا کہ پیوندکاری اور انٹراؤٹرائن ہے ایک بار پھر اسقاط حمل ہونے کے امکان کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں لہذا ان ترجیحات کے بارے میں محتاط انداز سے غور کرنا اچھا ہو گا۔

عام طور پراسقاط حمل کے دن آپ کو آپ کا منتخب کردہ طریقہ فراہم کیا جائے گا۔

کیا مجھے فالو اپ اپائنٹمنٹ کی ضرورت ہے؟

آپ کو اسقاط حمل کے اس یونٹ کا رابطہ نمبر جس میں آپ تشریف لائی تھیں دیا جا چکا ہو گا۔  اگرآپ کو یونٹ سے رخصت ہونے کے 48 گھنٹوں کے اندر ضرورت سے زیادہ خون آئے یا تکلیف ہوجائے تو آپ کو مشورے کے لئے وہاں کی نرسوں سے رابطہ کرنا چاہئے۔ اس کے بعد اگر آپ کو تشویش ہو توآپ کو سینڈی فورڈ کلینک یا اپنے جی پی کے پاس جانا چاہئے۔

تشویش والی علامات میں یہ شامل ہیں:

  • جاری درد جو درد رفع کرنے والی سادہ ادویات کا اثر قبول نہیں کرتا۔
  • خون آ رہا ہے جو دوبارہ سے بہت زیادہ ہوجاتا ہے۔
  • 3 ہفتوں سے زیادہ عرصہ سےخون بہہ رہا ہے۔
  • بلند زیادہ درجہ حرارت یا بخار۔
  • اندام نہانی سےایک بدبو دار مادہ خارج ہوتا ہے۔
  • حمل کی جاری علامات جیسا کہ متلی یا گلے کی خرابی۔

ہم نےاسقاط حمل کے دن آپ کو آپکی منتخب کردہ مانع حمل دوا فراہم کی ہو گی۔  تاہم، اگرآپ کو مانع حمل کا طریقہ کاردستیاب نہیں ہے تو یہ ضروری ہے کہ آپ دوبارہ سے جنسی عمل شروع کرنے سے قبل اپنے ترجیحات پر گفتگو کرنے کے لئے سینڈی فورڈ کلینک یا اپنے جی پی کے پاس جائیں۔

اسقاط حمل کے 2 ہفتوں بعد کچھ خواتین الٹراساؤنڈ اسکین کروا سکتی ہیں۔ اس کا مقصد اس بات کی تصدیق کرنا ہے کہ حمل کے تمام ٹشو (بافتیں) باہر نکل گئے ہیں اور اس بات کا جائزہ لینا کہ اب آپ حاملہ نہیں ہیں۔

اگر آپ کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ آپ کو اسکین کروانے کی ضرورت ہے تو یہ بہت اہم ہے کہ آپ اس کے لیے تشریف لائیں۔

جن خواتین نے گھرپرابتدائی طبی اسقاط حمل کا انتخاب کیا ہو گا انھیں اسقاط حمل کے 3 ہفتوں بعد خاص قسم کے حمل ٹیسٹ کروانے کی ضرورت درپیش ہوگی۔

یہ ٹیسٹ کروانے کے بارے میں یاد رکھنا بہت ضروری ہے تاکہ اس بات کی تصدیق ہو سکے کہ اسقاط حمل کامیاب ہو گیا ہے۔

اسقاط حمل کے بعد کی معاونت

زیادہ ترخواتین کے لئے اسقاط حمل کا فیصلہ کرنا آسان نہیں ہوتا۔ آپ کس طرح کا ردعمل ظاہرکریں گی اس کا انحصار آپ کے اسقاط حمل کے حالات، کروانے کی وجوہات اوراس بات پر ہے کہ آپ اپنے فیصلے کے بارے میں کس قدر اطمینان محسوس کرتی ہیں۔ آپ پرسکون یا غم زدہ یا دونوں کا امتزاج محسوس کرسکتی ہیں۔ بیشترخواتین کو فیصلے اور اسقاط حمل کے طریقہ کار کے وقت وسیع جذباتی صورتحال کا تجربہ کرنا پڑے گا۔

اسقاط حمل کروانے والی خواتین کی اکثریت طویل المیعاد جذباتی پریشانیوں کا شکار نہیں ہوتی۔

اسقاط حمل آپ کی جذباتی یا ذہنی صحت سے متعلق مسائل کا باعث نہیں بنائے گا لیکن اگر آپ کو ماضی میں دماغی صحت کی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے تو آپ کو غیر منصوبہ بند حمل کے بعد مزید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ مسائل اس سے قبل پیش آنے والے مسائل کا تسلسل ہوں اوردوبارہ پیدا ہوجائیں خواہ آپ اسقاط حمل کروانا چاہیں یا حمل جاری رکھنا چاہیں۔

 اسقاط حمل کے بعد سینڈی فورڈ کے ذریعےخصوصی کونسلنگ دستیاب ہے۔

آپ استقبالیہ پریا 6700 211 0141 پرسپورٹ سروس کے ساتھ بات کر کے اور پی او ٹی سی اپائنمنٹ کا کہہ کراپنی اپائنٹمنٹ بنوا سکتی ہیں۔

اگرآپ پریشان ہیں کہ آپ اسقاط حمل کا مقابلہ کس طرح سےکریں گی توآپ کے ڈاکٹر یا نرس آپ کے اسقاط حمل کے فوراً ہی بعد آپ کو کونسلر سے ملوانے کا بندوبست کرسکتی ہیں۔

اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کو ماضی کے اسقاط حمل سے مسائل درپیش ہیں توآپ کسی مشیر سے بات کرنے کے لئے اپائنٹمنٹ بنا سکتی ہیں خواہ آپ کا اسقاط حمل کتنی ہی دیر قبل ہو چکا ہو۔

اسقاط حمل کے بعد حمل کے ٹشو کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے؟

این ایچ ایس گریٹر گلاسگو اور کلائیڈ آپ کے حمل کے ٹشووں (بافتوں) کو قومی رہنما اصولوں کے مطابق تلف کرتے ہوئےان کے ساتھ احترام کے ساتھ اور حساس انداز میں نمٹیں گے۔  حمل کے ٹشووں کو ایک انفرادی بکس میں رکھا جائے گا اورانہیں اسپتال کے مردہ خانے میں بھیجا جائے گا۔ اس کے بعد انہیں مقامی شمشان گھاٹ میں میت سوزی کے لئے بھیجا جائے گا۔ حمل کے نتیجے میں میت سوزی کی بقیہ اجزاء (راکھ) دستیاب نہیں ہوں گی۔

 آپ سے میت سوزی کی اجازت حاصل کرنے کے لیے ہم آپ سے رضامندی کے فارم پر دستخط کرنے کا کہیں گے۔ اگرآپ حمل کو تلف کرنے کے لئے خود انتظامات کرنا چاہتی ہوں تو متبادل امکانات کے بارے میں کلینک میں ڈاکٹر یا نرس سے بات کریں۔

اضافی معلومات

رازداری اور معلومات کا تبادلہ

ہم آپ کی معلومات کی ہر وقت رازدارانہ برتیں  گے اورآپ کی نگہداشت میں شامل عملے ہی کو صرف آپ کے ریکارڈ تک رسائی کی اجازت ہے۔ اسقاط حمل کے تشخیصی کلینک میں آپ کی حاضری اوربعد ازاں علاج، ٹیسٹس اور حاضری آپ کی موجودگی میں ہی آپ کے ریکارڈ میں درج ہوگی۔ استعمال کیے جانے والے ریکارڈز سینڈی فورڈ اوراسپتال کے ریکارڈز ہوتے ہیں۔

ہم آپ کے جی پی کو اسقاط حمل کے سلسلہ میں آپ کی حاضری سے متعلق خط لکھ کر معلومات فراہم کریں گے۔   بعد ازاں اگر آپ کو کسی طرح کے مسائل کا سامنا ہو تو یہ ضروری ہے کہ آپ کے جی پی کو آپ کے علاج کے بارے میں معلوم ہو۔

 

 

ڈیٹا کے تحفظ اور رازداری کی یقین دہانی

آپ کے علاج سے متعلق معلومات کو اسکاٹ لینڈ میں اسقاط حمل سے گزرنے والی مریضوں کے بارے میں اعدادوشمار تیار کرنے کےاستعمال کیا جاتا ہے۔ یہ اعدادوشمار سروس فراہمی کی نگرانی کرنے اوراس بات کو یقینی بنانے کے لئے ضروری ہیں کہ مستقبل میں مریضوں کو دستیاب خدمات کو بہتر بنانے میں مدد مل سکے۔

اس کی انجام دہی کے لیے این ایچ ایس نیشنل انفارمیشن سروسز اسکاٹ لینڈ (جس کو مشترکہ سروسز ایجنسی بھی کہا جاتا ہے) کو سخت رازدارانہ انداز میں ڈیٹا فراہم کیا جاتا ہے؛اس کو چیف میڈیکل آفیسر کے دفتر کے ذریعے حفاظت کے ساتھ روانہ جاتا ہے تاہم چیف میڈیکل آفیسر یا ان کا عملہ اس کو کبھی بھی نہیں دیکھتا۔

ان معلومات کو اسقاط حمل ایکٹ 1967 اور اسقاط حمل (اسکاٹ لینڈ) ریگولیشنز 1991 کی ضروریات کے مطابق شیئر کیا گیا ہے۔ تمام ذاتی ڈیٹا کو جنرل ڈیٹا پروٹیکشن ریگولیشن اور ڈیٹا کی حفاظت سے متعلق تمام دیگر قوانین کے مطابق محفوظ طریقے سے استعمال اور ذخیرہ کیا جاتا ہے۔ اسقاط حمل کے بارے میں آپ کے علاج سے متعلق ذاتی ڈیٹا کو کبھی بھی کسی دوسری تنظیم کے ساتھ شیئر نہیں کیا جاتا ہے۔

اگر میں 16 سال سے کم عمر ہوں تو کیا ہوگا؟

کوئی بھی نوجوان شخص، عمر سے قطع نظر، طبی علاج کے لیے جائز رضامندی دے سکتا ہے،  بشرطیکہ کہ انہیں قانونی طور پر اس کا اہل سمجھا جاتا ہو؛ یعنی کہ وہ صحت کے پیشہ ور افراد کے مشورے اور انہیں جو پیشکش کی جارہی ہے کے خطرات اور فوائد کو سمجھنے کے قابل ہوں۔ آپ کا ڈاکٹر یا نرس صورتحال کے بارے میں آپ کی سوجھ بوجھ کا اندازہ لگانے کے لئے آپ کے ساتھ کام کرے گا/گی۔

16 سال سے کم عمر کی تمام خواتین کو اپنے والدین یا سرپرستوں یا دیگر کسی معاون بالغ فرد کو شامل کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ اگرآپ ایسا نہ کرنے کا انتخاب کرتی ہیں تو پھر بھی ڈاکٹرزآپ کو اسقاط حمل کی پیشکش کر سکتے ہیں بشرطیکہ وہ مطمئن ہوں کہ آپ جائز رضامندی فراہم کر سکتی ہیں اور یہ عمل آپ کے بہترین مفادات میں ہے۔

آپ کوہرکسی کی طرح رازداری کا حق حاصل ہے۔ تاہم اگرآپ کے ڈاکٹر یا نرس کو شبہ ہو کہ آپ کو زیادتی یا نقصان کے خطرے کا سامنا ہے تو وہ سوشل سروسز کوشامل کرنے کے پابند ہیں۔ دیگر سروسز کو شامل کرنے سے قبل وہ ہمیشہ  آپ کے ساتھ اپنے خدشات پر بات کرنے کی کوشش کریں گے۔

صنفی بنیاد پر تشدد

3 میں 1 اور 5 میں 1 کے درمیان خواتین کو اپنے حالیہ یا سابقہ ​​ساتھی سے جذباتی ، جسمانی اور/ یا جنسی بدسلوکی کا سامنا ہوتا ہے۔  تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ اسقاط حمل کی تلاش میں مصروف عمل 3 میں سے 1 خاتون کو حالیہ یا سابقہ ​​ساتھی کی طرف سے بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اگرآپ کو موجودہ وقت میں بدسلوکی کا سامنا ہے، یا آپ کو ماضی میں زیادتی کا سامنا کرنا پڑا ہے تو اپنے علاقے میں معاون خدمات کے بارے میں معلومات کے لیے نیشنل ڈومیسٹک ابیوز ہیلپ لائن کے ساتھ اس نمبر1234 027 0800 (24 گھنٹے) پر رابطہ فرمائیں۔   اس نمبر پرکی جانے والی کالز مفت ہیں اور وہ آپ کے ٹیلیفون بل پرظاہر نہیں ہوتیں۔

18-24 ہفتوں کا اسقاط حَمَل

گریٹر گلاسگو اور کلائیڈ میں 18 ہفتوں یا اس سے زیادہ عرصہ کے بعد اسقاط حَمَل دستیاب نہیں ہے۔ اگر آپ 18 ہفتوں یا اس سے زیادہ عرصے کی حاملہ ہیں تو آپ کو برٹش حمل ایڈوائزری سروس (بی پی اے ایس) کے پاس بھیجنے کی ضرورت ہوگی۔ عام طور پرآپ گلاسگو میں کسی مشیر سے مشورہ کریں گی جوکہ بعد ازاں انگلینڈ میں اسقاط حمل کی کسی ماہر سروس میں آپ کے جانے کا بندوبست کریں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ 2 دنوں تک گھر سے دور رہنا پڑ سکتا ہے۔

بشرطیکہ آپ این ایچ ایس کی طرف سے نگہداشت کی اہلیت رکھتی ہوں این ایچ ایس گریٹر گلاسگو اور کلائیڈ آپ کےعلاج، سفر اور ضروری رہائش کی لاگت ادا کریں گے۔

اگر میں انگریزی زبان میں اچھی طرح سے بات نہیں کر سکتی تو کیا ہوگا؟

یہ بہت ضروری ہے کہ آپ ان تمام معلومات کوجو آپ کو ملتی ہیں سمجھنے کی اہل ہوں ۔ یہ بہت ضروری ہے کہ آپ  ڈاکٹر کواپنے فیصلے کے بارے میں اور اپنے احساسات اور اپنی صورتحال کے بارے میں بتا سکیں۔ اگرآپ اچھی طرح سے انگریزی نہیں بول سکتیں تو ہم آپ کے مشورے اورعلاج معالجے کے لئے تربیت یافتہ ترجمان کا بندوبست کریں گے۔ یہ ترجمان آپ کی تمام معلومات کی رازداری رکھے گا۔

ترجمہ کرنے کیلئے آپ کی اپنی طرف سے کسی دوست یا کنبے کے کسی فرد کواستعمال کرنا  قابل قبول نہیں ہے۔ تاہم اگرآپ چاہیں تو مدد کے لئے کسی کو اپنے ساتھ لا سکتی ہیں۔

اگر میں اپنے آپ کو ملنے والی سروس سے خوش نہیں ہوتی تو کیا ہوگا؟

اگر آپ اپنی دیکھ بھال کے کسی بھی پہلو سے ناخوش ہوں تو براہ کرم اپنی دیکھ بھال کرنے والے عملے کے ممبر کو بتائیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم آپ کی کسی بھی تشویش کو براہ راست اور فوری طور پر حل کرنے کی کوشش کر سکتےہیں۔  اگر آپ ایسا کرنے کے قابل نہ ہوں یا اطمینان  محسوس نہ کریں توعملے کے کسی دوسرے ممبر سے بات کرنے کے لئے کہہ سکتی ہیں۔ اگر آپ کو لگتا ہو کہ آپ کے خدشات سے نمٹا نہیں جا رہا توآپ باضابطہ شکایت کرنے کی خواہش کرسکتی ہیں۔

اگر میں شکایت کرنا چاہتا ہوں تو کیا ہوگا؟

اگر ہم آپ کے خدشات حل کرنے میں ناکام رہے ہیں یا آپ باضابطہ شکایت کرنا چاہتی ہیں تو آپ این ایچ ایس جی جی سی کے محکمہ شکایات سے مزید معلومات حاصل کرسکتی ہیں۔ وہ عام طور پرآپ کو اپنی شکایت تحریری طور پر بھیجنے کے لئے کہیں گے اور ہم متفقہ طور پر طے کردہ وقت پراس کا جواب دیں گے۔

ٹیلیفون: 4500 201 0141 (صرف شکایات کے لیے) ای میل: complaints@ggc.scot.nhs.uk

مفید رابطے کی تفصیلات اور مزید معلومات

ٹی او پی اے آر اپائنٹمنٹس اینڈ ایڈوائس8620 211 0141

سینڈی فورڈ کونسلنگ اینڈ سپورٹ سروسز 6700  211 0141

سینڈی فورڈ سیکچوئیل ہیلتھ سروسز اینڈ انفارمیشن 8130 211 0141

اگر آپ اسقاط حمل سے متعلق اپائنٹمنٹ منسوخ کرنا چاہتی ہوں تو براہ کرم فون کریں۔

ٹی او پی اے آر،  پیرتا جمعہ ، صبح 8.30 بجے تا شام 4.30 بجے تک، 8620 211 0141

18 ہفتوں سے زیادہ عرصہ کےاسقاط حمل کے بارے میں معلومات اور اپائنٹمنٹس کے لئے فون کریں 30 40 30 03457

www.bpas.org